Shia k batil Aqaid - شعیت پر مضامین - شعیت - Publisher - :: RADD E BATILAH :: ....
................
Site menu
Main » Articles » شعیت » شعیت پر مضامین

Shia k batil Aqaid

مولانا مفتی طاہر مسعود صاحب
فرقِ باطلہ اور ان کے عقائد

۱- قادیانی ولاہوری
حضور اکرم ا آخری نبی ہیں‘ آپ ا کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا‘ آپ ا کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے وہ مرتد اور زندیق ہے۔(۱) مرزا غلام احمد قادیانی نے ۱۸۹۱ء میں مسیح موعود ہونے کا ۱۸۹۹ء میں ظلی بروزی نبی ہونے کا اور بالآخر ۱۹۰۱ء میں مستقل صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔ (۲) مرزا اپنے ان جھوٹے دعوؤں کی بناء پر کافر ومرتد اور زندیق ٹھہرا اور اس کو نبی ماننے والے بھی کافر ومرتد اور زندیق ٹھہرے۔ (۳) مرزا کو ماننے والے دو طرح کے لوگ ہیں:
۱- قادیانی گروپ ۲- لاہوری گروپ,br> قادیانی: مرزا کو اس کے تمام دعوؤں میں سچامانتے ہیں‘ لہذا جو لوگ اسلام سے برگشتہ ہوکر قادیانی ہوئے‘ وہ مرتد کہلائیں گے اور جو پیدائشی قادیانی ہیں وہ زندیق کہلائیں گے۔ (۴)
لاہوریوں اور قادیانیوں کا اصل جھگڑا حکیم نور الدین کے بعد ”مسئلہ خلافت“ پر ہوا‘ قادیانی خاندان نے مرزا محمود کو خلافت سونپ کر اس کے ہاتھ پر بیعت کرلی‘ جب کہ لاہوری گروپ محمد علی لاہوری کی خلافت کا خواہاں تھا‘ ورنہ دونوں گروپ مرزا کو اپنے دعوؤں میں سچا مانتے ہیں۔ اگر لاہوری کہیں کہ: ہم قادیانی کو نبی نہیں مانتے‘ اول تو یہ بات خلاف حقیقت اور غلط ہے‘ اور اگر یہ بات تسلیم بھی کر لی جائے‘ تو وہ اس کو مجدد‘ مہدی اور مامور من اللہ وغیرہ ضرور مانتے ہیں جب کہ جھوٹے مدعئی نبوت کو مسلمان سمجھنے سے آدمی کافر ومرتد ہوجاتا ہے‘ لہذا قادیانی جماعت کے دونوں گروہ قادیانی اور لاہوری کافر ومرتد ہیں۔ (۵)

۲- بہائی
بہائی فرقہ مرزا محمد علی شیرازی کی طرف منسوب ہے‘ محمد علی ۱۸۲۰ء میں ایران میں پیدا ہوا‘ اثنا عشری فرقے سے تعلق رکھتا تھا‘ اسی نے اسماعیلی مذہب کی بنیاد ڈالی‘ محمد علی نے بہت سے دعوے کئے‘ ایک دعوی یہ کیا کہ وہ امام منتظر کے لئے ”باب“ یعنی دروازہ ہے‘ اسی واسطے اس فرقے کو فرقہ بابیہ بھی کہا جاتا ہے۔ بہائیہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے ایک وزیر ”بہاء اللہ‘ کا سلسلہ آگے چلا‘ دوسرے وزیر ”صبح الاول“ کا سلسلہ نہ چل سکا۔ محمد علی کے دعوؤں میں سے ایک دعویٰ یہ تھا کہ: وہ خود مہدی منتظر ہے‘ وہ اس بات کا بھی مدعی تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کے اندر حلول کئے ہوئے ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی مخلوق کے لئے ظاہر کیا ہے۔ وہ قرب قیامت میں نزول عیسی علیہ السلام کی طرح ظہور موسیٰ علیہ السلام کا بھی قائل تھا۔دنیا میں اس کے علاوہ کوئی بھی نزول موسیٰ علیہ السلام کا قائل نہیں ہے‘ وہ اپنے بارے میں اس بات کا بھی مدعی تھا کہ وہ ”اولو العزم من الرسل“ کا مثل حقیقی ہے‘ یعنی حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں وہی نوح تھا‘ موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں وہی موسیٰ تھا‘ عیسی علیہ السلام کے زمانے میں وہی عیسی تھا اور حضور اکرم اکے زمانے میں وہی محمد تھا۔ (معاذ اللہ) اس کا ایک دعویٰ یہ تھا کہ اسلام ‘ عیسائیت اور یہودیت میں کوئی فرق نہیں ہے‘ وہ حضور اکرم ا کی ختم نبوت کا بھی منکر تھا‘ اس نے ”البیان“ نامی ایک کتاب لکھی‘ جس کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ یہ کتاب میری طرف بھیجی جانے والی وحی الٰہی پر مشتمل ہے‘ اس نے تمام محرمات شرعیہ کو جائز قرار دیا اور کتاب وسنت سے ثابت اکثر احکام شرعیہ کا انکار کیا‘ اسلام کے برخلاف ایک جدید اسلام پیش کرنے کا دعوی کیا‘ انہی تمام باطل دعوؤں پر اس کا خاتمہ ہوا‘ اس کے بعد اس کا بیٹا عباس المعروف عبد البہاء اس کا خلیفہ مقرر ہوا ۔ یہ فرقہ بھی اپنے باطل اور کفریہ نظریات کی بناء پر دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ (۶)

۳- اسماعیلی وآغا خانی
اسماعیلی مذہب ‘ اسلام کے برخلاف واضح کفریہ عقائد اور قرآن وسنت کے منافی اعمال پر مشتمل مذہب ہے۔ اس مذہب کے بانی پیر صدر الدین ۷۰۰ھ میں ایران کے ایک گاؤں ”سبز وار“ میں پیدا ہوئے‘ خراسان سے ہندوستان آئے‘ سندھ‘ پنجاب اور کشمیر کے دورے کئے اور نئے مذہب کی بنیاد ڈالنے کے حوالے سے ان دوروں میں بڑے بڑے تجربات حاصل کئے۔ چنانچہ سندھ کے ایک گاؤں ”کوہاڈا“ کو اپنا مرکز ومسکن قرار دیا‘ ایک سو اٹھارہ سال کی طویل عمر پاکر پنجاب‘ بہاولپور کے ایک گاؤں ”اوچ“ میں اس کا انتقال ہوا‘ اس نے اسماعیلی مذہب کا کھوج لگا کر اسماعیلیوں کو یہ مذہب دیا۔ (۷) اسماعیلی مذہب کا کلمہ یہ ہے:

”اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمدا رسول اللہ واشہد ان امیر المؤمنین علی اللہ“ (۸)
اسماعیلی مذہب کے عقیدہ امامت کے متعلق عجیب وغریب نظریات ہیں‘ ان کے نظریہ میں ”امام زمان“ ہی سب کچھ ہے‘ وہی خدا ہے‘ وہی قرآن ہے‘ وہی خانہ کعبہ ہے‘ وہی بیت المعمور (فرشتوں کا کعبہ) ہے‘ وہی جنت ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں لفظ ”اللہ“ آیا ہے‘ اس سے مراد بھی امام زمان ہی ہے۔ (۹) اسماعیلی ختم نبوت کے منکر ہیں‘ چنانچہ ان کے مذہب کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام: عالم دین کے اتوار ہیں‘حضرت نوح علیہ السلام: سوموار ہیں‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام: منگل ہیں‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام: بدھ ہیں‘ حضرت عیسی علیہ السلام: جمعرات ہیں اور حضرت محمد ا : عالم دین کے روز جمعہ ہیں اور سنیچر یعنی ہفتہ کے آنے کا انتظار ہے اورر وہ قائم القیامة ہے۔ ان کے زمانہ میں اعمال نہیں ہوں گے‘ بلکہ اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ (۱۰) اسماعیلی مذہب میں قرآن کریم اور قیامت کا انکار کیا گیا ہے‘ قرآن امام زمان کو قرار دیا گیا ہے اور ان کے ساتویں حضرت قائم القیامة کے زمانہ سنیچر کو قیامت قرار دیا گیا ہے۔ (۱۱)
اسماعیلی مذہب کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے:
۱․․․ دعا کے لئے ہمیشہ جماعت خانہ میں حاضر ہونا اور وہیں دعا پڑھنا۔۲․․․ آنکھ کی نظرپاک ہونا۔۳- سچ بولنا۔۴․․․ سچائی سے چلنا۔۵․․․نیک اعمال۔(۱۲) اسماعیلی مذہب میں نماز نہیں ہے‘ اس کی جگہ دعا ہے‘ روزہ فرض نہیں‘زکوٰة نہیں‘ اس کے بدلے میں مال کا دسواں حصہ بطور دسوند امام زمان کو دینا لازم ہے‘ حج نہیں ہے‘ اس کے بدلے میں امام زمان کا دیدار ہے یا اسماعیلیوں کا حج پہلے ایران میں ہوتا تھا‘ اب بمبئی بھی حج کرنے جاتے ہیں۔ (۱۳) اسماعیلی مذہب کی کفریات کی بناء پر ان کو مسلمان سمجھنا یا ان کے ساتھ مسلمانوں جیسا معاملہ کرنا جائز نہیں۔ (۱۴)

۴- ذکری فرقہ
ذکری فرقے کی بنیاد دسویں صدی ہجری میں بلوچستان کے علاقہ تربت میں رکھی گئی۔ ملا محمد اٹکی نے اس کی بنیاد رکھی‘ جو ۹۷۷ھ میں پیدا ہوا اور ۱۰۲۹ھ میں وفات پاگیا۔ ملامحمد اٹکی نے پہلے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا‘ پھر نبوت کا دعویٰ کیا‘ آخر میں خاتم الانبیاء ہونے کا دعویٰ کردیا۔ ذکری فرقے کا بانی ملا محمد اٹکی سید محمد جو نپوری کے مریدوں میں سے تھا‘ اس کی وفات کے بعد اس نے ذکری فرقے کی بنیاد رکھی‘ سید محمد جونپوری ۸۴۷ھ میں جونپور صوبہ اودھ میں پیدا ہوا‘ اس نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا‘ اس کے پیروکاروں کو ”فرقہ مہدویہ“ کا نام دیا جاتا ہے‘ اس فرقے کے بہت سے کفریہ عقائد ہیں‘ مثلا: سید محمد جونپوری کو مہدی ماننا فرض ہے‘ اس کا انکار کفر ہے‘ محمد جونپوری کے تمام ساتھی آنحضرت ا کے علاوہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام سے افضل ہیں‘ احادیث نبوی کی تصدیق محمد جونپوری سے ضروری ہے وغیرہ وغیرہ۔ سید محمد جونپوری نے افغانستان میں ”فراہ“ کے مقام پر وفات پائی‘ جونپوری کے فرقہ سے ذکری فرقہ نکلا ہے‘ ان دونوں فرقوں کے مابین بعض عقائد میں مماثلت پائی جاتی ہے اور بعض عقائد کا آپس میں فرق ہے‘ مثلا: مہدویہ کے نزدیک سید محمد جونپوری مہدی ہے اور ذکریہ کے نزدیک نبی آخر الزمان ہے۔ مہدویہ کے نزدیک سید محمد جونپوری ”فراہ“ میں وفات پاگیا‘ اور ذکریہ کے نزدیک وہ نور ہے‘ مرا نہیں ہے۔ مہدویہ کے نزدیک آنحضرت ا خاتم الانبیاء ہیں اور ذکریہ کے نزدیک آپ انبی ہیں‘ خاتم الانبیاء نہیں۔ مہدویہ کے نزدیک قرآن کریم آپ ا پر نازل ہوا اور آپ ا کی بیان کردہ تعبیر معتبر ہے اور ذکریہ کے نزدیک قرآن سید محمد جونپوری پر نازل ہوا ہے‘ حضور ا درمیان میں واسطہ ہیں‘ اس کی وہی تعبیر معتبر ہے جو سید محمد جونپوری سے بروایت ملا محمد اٹکی منقول ہے۔ مہدویہ کے نزدیک قرآن کریم میں مذکور لفظ ”محمد“ سے نبی کریم ا مراد ہیں اور ذکریہ کے نزدیک اس سے مراد سید محمد جونپوری ہے‘ مہدویہ ارکان اسلام نماز‘ روزہ‘ حج اور زکوٰة وغیرہ کی فرضیت کے قائل ہیں اور ذکریہ ان تمام کو منسوخ مانتے ہیں‘ ذکریہ نے حج کے لئے کوہ مراد کو متعین کیا‘ ”برکہور“ ایک درخت کو‘ جو تربت سے مغرب کی جانب ہے‘ مہبط الہام قرار دیا‘ تربت سے جنوب کی جانب ایک میدان ”گل ڈن“ کو عرفات کا نام دیا‘ تربت کی ایک کاریز ”کاریزہزئی“ کو زم زم کا نام دیا‘ یہ کاریز اب خشک ہوچکی ہے‘ جب کہ مہدویہ ان تمام اصطلاحات سے بے خبر ہیں۔ ذکری فرقہ کے وجود میں آنے کا سبب دراصل یہ بنا کہ:سید محمد جونپوری کی وفات کے بعد اس کے مریدین تتر بتر ہوگئے‘ بعض نے واپس ہندوستان کا رخ کیا اور بعض دیگر علاقوں میں بکھر گئے‘ انہی مریدوں میں سے ایک ملا محمد اٹکی ”سرباز“ ایرانی بلوچستان کے علاقہ میں جانکلا‘ ان علاقوں میں اس وقت ایران کے ایک فرقہ باطنیہ جو فرقہ اسماعیلیہ کی شاخ ہے‘ آباد تھی‘ یہ لوگ سید کہلاتے تھے‘ ملامحمد اٹکی نے اس فرقہ کے پیشواؤں سے بات چیت کی‘ مہدویہ اور باطنیہ عقائد کا آپس میں جب ملاپ ہوا تو اس کے نتیجے میں ایک تیسرے فرقہ ”ذکری“ نے جنم لیا‘ ملامحمد اٹکی اپنے آپ کو مہدی آخر الزمان کا جانشین کہتا تھا‘اس فرقہ کا کلمہ ہے:

”لاالہ الا اللہ نور پاک محمد مہدی رسول اللہ“
قرآن وسنت کے برخلاف عقائد واعمال پر اس فرقہ کی بنیاد ہے‘ چنانچہ یہ فرقہ عقیدہ ختم نبوت کا منکر ہے‘ ان کے مذہب میں نماز‘ روزہ‘ حج اور زکوٰة جیسے ارکان اسلام منسوخ ہیں‘ نماز کی جگہ مخصوص اوقات میں اپنا خود ساختہ ذکر کرتے ہیں‘ اسی وجہ سے ذکری کہلاتے ہیں‘ ان کے علاقے میں مسلمانوں کو نمازی کہا جاتا ہے کہ یہ ذکر کرتے ہیں‘ اور مسلمان نماز پڑھتے ہیں‘ رمضان المبارک کے روزوں کی جگہ یہ ذی الحجہ کے پہلے عشرے کے روزے رکھتے ہیں‘ حج بیت اللہ کی جگہ ستائیس رمضان المبارک کو ”کوہ مراد“ تربت میں جمع ہوکر مخصوص قسم کے اعمال کرتے ہیں جس کو حج کا نام دیتے ہیں‘ زکوٰة کے بدلے اپنے مذہبی پیشواؤں کو آمدنی کا دسواں حصہ دیتے ہیں۔ ذکریوں کا عقیدہ ہے کہ ان کا پیشوا محمد مہدی نوری تھا‘ عالم بالا واپس چلا گیا‘ وہ کہتے ہیں ”نوری بود عالم بالا رفت“ ان کے عقیدہ کے مطابق وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ عرش پر بیٹھا ہوا ہے‘ حضور اکرم ا کو معراج اسی لئے کرایا گیا تھا کہ: آپ ا محمد مہدی کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ عرش پر بیٹھا ہوا سمجھ لیں کہ سردار انبیاء یہ ہے‘ میں نہیں ہوں۔ (معاذ اللہ) ذکری مذہب چند مخصوص رسموں اور خرافات کا مجموعہ ہے‘ ان کی ایک رسم ”چوگان“ کے نام سے مشہور ہے‘ جس میں مردوزن اکٹھے ہوکر رقص کرتے ہیں‘ ان کی ایک خاص عبادت ”سجدہ“ ہے‘ صبح صادق سے ذرا پہلے مردوزن یکجا ہوکر بآوار بلند چند کلمات خوش الحانی سے پڑھتے ہیں‘ پھر بلا قیام ورکوع ایک لمبا سجدہ کرتے ہیں‘ یہ اجتماعی سجدہ ہوتا ہے‘ اس کے بعد دو انفرادی سجدے کرتے ہیں۔ ذکری فرقہ عقیدہ ختم نبوت اور ارکان اسلام کے انکار‘ توہین رسالت اور بہت سے کفریہ عقائد کی بناء پر اسماعیلیوں اور قادیانیوں کی طرح زندیق ومرتد ہے‘ انہیں مسلمان سمجھنا یا ان کے ساتھ مسلمانوں جیسا معاملہ کرنا جائز نہیں۔ (۱۵)

۵- رفض
حضرت عثمان کے زمانے میں عبد اللہ ابن سبا یہودی نامی شخص نے اسلام قبول کیا‘ اس کا مقصد دین اسلام میں فتنہ پیدا کرنا اور اسلام کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنا تھا‘ وہ حضرت عثمان کے زمانے میں پیدا ہونے والے فتنے میں پیش پیش تھا اور حضرت عثمان کے قتل میں بھی ملوث ہوا‘ اس شخص کے عقائد ونظریات سے رفض نے جنم لیا‘ رفض کے بہت سے گروہ ہیں‘ بعض محض تفضیلی ہیں کہ حضرت علی کو تمام صحابہ سے افضل سمجھتے ہیں اور کسی صحابی کی شان میں کوئی گستاخی نہیں کرتے‘ بعض تبرائی ہیں کہ چند صحابہ کے علاوہ باقی سب کو برا بھلا کہتے ہیں ‘ بعض الوہیت علی کے قائل ہیں‘ بعض تحریف قرآن کے قائل ہیں‘ بعض صفات باری تعالیٰ کے مخلوق ہونے کے قائل ہیں‘ بعض اس بات کے قائل ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر بہت سی چیزیں واجب ہیں‘ بعض آخرت میں رؤیت باری تعالیٰ کے قائل نہیں ہیں‘ وغیر وغیرہ۔ (۱۶) رفض کے ہرگروہ کے عقائد دوسرے سے مختلف ہیں‘ لہذا بحیثیت مجموعی ان پر کوئی ایک حکم نہیں لگایاجاسکتا۔ (۱۷)

۶-خوارج
خوارج‘ خارج کی جمع ہے‘ خارج لغت میں باہر نکلنے والے کو کہتے ہیں اور شرعی اصطلاح میں ہر اس شخص کو کہتے ہیں‘ جو امام برحق واجب الاطاعت کی بغاوت کرکے اس کی اطاعت سے باہر نکل جائے‘ یہ لفظ ان باغیوں کا لقب اور نام بن گیا‘ جنہوں نے حضرت علی کی بغاوت کرکے ان کی شان میں بہت سی گستاخیاں کیں‘ مسئلہ تحکیم کے موقع پر یہ گروہ پیدا ہوا‘ یہ تقریباً بارہ ہزار لوگ تھے‘ ان کے مختلف نام تھے‘ مثلاً: محکمہ‘ حروریہ‘ نواصب اور مارقہ وغیرہ۔ ان لوگوں کے ظاہری حالات بہت اچھے تھے‘ لیکن ظاہر جتنا اچھا تھا‘ باطن اتنا ہی برا تھا‘ مسئلہ تحکیم کے بعد یہ لوگ حروراء مقام پر چلے گئے‘ حضرت علی نے حضرت عبد اللہ ابن عباس کو ان کے پاس بھیجا کہ وہ انہیں سمجھائیں اور انہیں امیر کی اطاعت میں واپس لائیں‘ حضرت ابن عباسکے سمجھانے سے بہت سے لوگ ان سے الگ ہو گئے اور امیر کی اطاعت میں واپس آگئے‘ لیکن ان کے بڑے اور ان کے موافقین اپنی ضد پر اڑے رہے‘ حضرت علی بھی ان کے پاس تشریف لائے مگر ان پر کوئی اثر نہ ہوا‘ انہوں نے صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن خباب کو شہید کر دیا‘ پھر حضرت علی کا ان کے ساتھ معرکہ ہوا‘ خارجیوں کی قیادت عبد اللہ بن وہب اور ذی الخویصرہ حرقوص بن زید وغیرہ کے ہاتھ میں تھی‘ اس جنگ کے نتیجے میں اکثر خارجی قتل ہوگئے‘ خوارج حضرت علی‘ حضرت عثمان‘ حضرت طلحہ‘ حضرت زبیر‘ حضرت عائشہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس  کو کافر اور مخلد فی النار قرار دیتے تھے‘ اس شخص کو بھی کافر کہتے تھے‘ جو ان کا ہم مسلک ہونے کے باوجود ان کے ساتھ قتال میں شریک نہ ہوتا‘ مخالفین کے بچوں اور عورتوں کے قتل کے قائل تھے‘ رجم کے قائل نہیں تھے‘ اطفال المشرکین کے خلود فی النار کے قائل تھے‘ اس بات کے بھی قائل تھے کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو بھی نبی بنا دیتے ہیں‘ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو یہ علم ہو کہ یہ بعد میں کافر ہوجائے گا‘ اس بات کے بھی قائل تھے کہ نبی بعثت سے پہلے معاذ اللہ کافر ہوسکتا ہے‘ خوارج مرتکب کبیرہ کو کافر اور مخلد فی النار قرار دیتے تھے‘ اس پر وہ کفر ابلیس سے استدلال کرتے تھے کہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرکے مرتکب کبیرہ ہوا تھا‘ اس بناء پر اس کو کافر قرار دیدیا گیا‘ معلوم ہوا مرتکب کبیرہ کافر ہوجاتاہے‘ حالانکہ ابلیس محض ارتکاب کبیرہ کی بناء پر کافر نہیں ہوا‘ بلکہ حکم خداوندی کے مقابلے میں اباء واستکبار اس کے کفر کا سبب ہے۔ (۱۸)

۶- معتزلہ
دوسری صدی ہجری کے اوائل میں یہ فرقہ معرض وجود میں آیا‘ اس فرقے کا بانی واصل بن عطاء الغزال تھا اور اس کا سب سے پہلا پیروکار عمرو بن عبید تھا جو حضرت حسن بصری کا شاگرد تھا‘ ان لوگوں کو اہل سنت والجماعت کے عقائد سے الگ ہوجانے کی بناء پر معتزلہ کہا جاتاہے۔ معتزلہ کے مذہب کی بنیاد عقل پر ہے کہ ان لوگوں نے عقل کو نقل پر ترجیح دی ہے‘ عقل کے خلاف قطعیات میں تاویلات کرتے ہیں اور ظنیات کا انکار کردیتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ کے افعال کو بندوں کے افعال پر قیاس کرتے ہیں‘ بندوں کے افعال کے حسن وقبح کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کے افعال پر حسن وقبح کا حکم لگاتے ہیں‘ خلق اور کسب میں کوئی فرق نہیں کرپاتے‘ ان کے مذہب کے پانچ اصول ہیں:
۱- عدل ۲- توحید ۳- انفاذ وعید
۴- منزلة بین منزلتین ۵- امر بالمعروف ونہی عن المنکر
۱- ”عقیدہٴ عدل“ کے اندر درحقیقت انکارِ عقیدہ تقدیر مضمر ہے‘ ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ شرکا خالق نہیں‘ اگر اللہ تعالیٰ کو شرکا خالق مانیں تو شریر لوگوں کو عذاب دینا ظلم ہوگا‘ جوکہ خلاف عدل ہے‘ جبکہ اللہ تعالیٰ عادل ہے‘ ظالم نہیں۔
۲- ان کی ”توحید“ کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات اور قرآن کریم مخلوق ہیں‘ اگر انہیں غیر مخلوق مانیں تو تعدد قدماء لازم آتاہے جو توحید کے خلاف ہے۔
۳- ”وعید“ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو جو عذاب بتلائے ہیں اور جو جو وعیدیں سنائی ہیں گنہگاروں پر ان کو جاری کرنا‘ اللہ تعالیٰ پر واجب ہے‘ اللہ تعالیٰ کسی کو معاف نہیں کرسکتا اور کسی گنہگار کی توبہ قبول نہیں کرسکتا ‘ اس پر لازم ہے کہ گناہ گار کو سزا دے‘ جیساکہ اس پر لازم ہے کہ نیک کو اجر وثواب دے‘ ورنہ انفاذ وعید نہیں ہوگا۔
۴- ”منزلة بین منزلتین“ کا مطلب یہ ہے کہ معتزلہ ایمان اور کفر کے درمیان ایک تیسرا درجہ مانتے ہیں اور وہ مرتکب کبیرہ کا درجہ ہے‘ ان کے نزدیک مرتکب کبیرہ یعنی گناہ گار شخص ایمان سے نکل جاتاہے اور کفر میں داخل نہیں ہوتا‘ گویا نہ وہ مسلمان ہے اور نہ کافر۔
۵- ”امر بالمعروف‘ کا مطلب ان کے نزدیک یہ ہے کہ جن احکامات کے ہم مکلف ہیں‘ دوسرں کو ان کاحکم کریں اور لازمی طور پر ان کی پابندی کروائیں اور ”نہی عن المنکر“ یہ ہے کہ اگر امام ظلم کرے تو اس کی بغاوت کرکے اس کے ساتھ قتال کیا جائے ‘ معتزلہ کے یہ تمام اصول اور ان کی تشریحات عقل وقیاس پر مبنی ہیں‘ ان کے خلاف واضح آیات واحادیث موجود ہیں‘ نصوص کی موجودگی میں عقل وقیاس کو مقدم کرنا سراسر غلطی اور گمراہی ہے۔ (۱۹)

۸- مشبہ
یہ وہ فرقہ ہے جو اللہ تبارک وتعالیٰ کو مخلوق کے ساتھ صفات میں تشبیہ دیتا ہے‘ اس فرقے کا بانی داود جواربی تھا‘ یہ مذہب ‘ مذہب نصاریٰ کے برعکس ہے کہ وہ مخلوق یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خالق کے ساتھ ملاتے ہیں اور انہیں بھی الٰہ قرار دیتے ہیں اور یہ خالق کو مخلوق کے ساتھ ملاتے ہیں‘ اس مذہب کے باطل اور گمراہ ہونے میں کیا شک ہوسکتاہے۔ (۲۰)

۹- جہمیہ
جہم بن صفوان سمرقندی کی طرف منسوب فرقے کا نام جہمیہ ہے‘ اس فرقے کے عجیب وغریب عقائد ہیں یہ لوگ اللہ تبارک وتعالیٰ کی تمام صفات کی نفی کرتے ہیں‘ ان کا کہنا ہے کہ اللہ ”وجود مطلق“ کا نام ہے‘ پھر اس کے لئے جسم بھی مانتے ہیں‘ جنت اور جہنم کے فناہونے کے قائل ہیں‘ ان کے نزدیک ایمان صرف ”معرفت“ کا نام ہے‘ اور کفر فقط ”جہل“ کا نام ہے‘ یہ اللہ تعالیٰ کے لئے جسم کے قائل ہیں‘ ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کاکوئی فعل نہیں ہے‘ اگر کسی کی طرف کوئی فعل منسوب ہوتا ہے تو وہ مجازاً ہے۔ جہم بن صفوان‘ جعد بن درہم کا شاگرد تھا‘ جعد وغیرہ کا مذہب یہ بھی تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ نہیں ہیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کلیم اللہ نہیں ہیں‘ خالد بن عبد اللہ القسری نے واسط شہر میں عید الاضحیٰ کے دن لوگوں کی موجودگی میں جعد کی قربانی کی اور اسے ذبح کردیا‘ معتزلہ نے بھی کچھ عقائد ان سے لئے ہیں۔ (۲۱)

۱۰- مرجئہ
یہ فرقہ اعمال کی ضرورت کا قائل نہیں‘ ارجاء کا معنی ہوتا ہے پیچھے کرنا‘ یہ اعمال کی حیثیت کو بالکل پیچھے کر دیتے ہیں‘ ان کے نزدیک ایمان صرف تصدیق کا نام ہے‘ تصدیق قلبی حاصل ہو تو بس کافی ہے‘ ان کا کہنا ہے کہ جیسے کفر کے ہوتے ہوئے کوئی نیکی مفید نہیں‘ ایسے ہی ایمان یعنی تصدیق کے ہوتے ہوئے کوئی گناہ مضر نہیں‘ جس طرح ایک کافر عمر بھر حسنات کرتے رہنے سے ایک لمحہ کے لئے بھی جنت میں داخل نہیں ہوگا‘ جنت اس پر حرام ہے‘ اسی طرح گناہوں میں غرق ہونے والا مومن ایک لمحہ کے لئے بھی جہنم میں نہیں جائے گا‘ جہنم اس پر حرام ہے‘ یہ مذہب بھی باطل اور سراسر گمراہی ہے‘ کیونکہ قرآن وحدیث میں جابجا مسلمانوں کو اعمال صالحہ کرنے کا اور اعمال سیئہ سے اجتناب کا حکم دیا گیا ہے۔ (۲۲)

۱۱- جبریہ
یہ فرقہ بھی جہم بن صفوان کی طرف منسوب ہے‘ یہ فرقہ بندہ کو جمادات کی طرح مجبور محض مانتاہے‘ ان کا عقیدہ ہے کہ بندہ کو اپنے افعال پر کوئی قدرت واختیار نہیں‘ بلکہ اس کا ہر عمل محض اللہ تبارک وتعالیٰ کی تقدیر ‘ علم ارادے اور قدرت سے ہوتا ہے‘ جس میں بندے کا اپنا کوئی دخل نہیں۔ یہ مذہب صریح البطلان ہے‘ نقل وعقل اور مشاہدے کے خلاف ہے‘ اگر انسان کے پاس کوئی اختیار نہیں اور یہ مجبور محض ہے تو پھر اس کے لئے جزاء وسزا کیوں ہے؟ (۲۳)

۱۲- قدریہ
یہ جبریہ کے برعکس نظریات کا حامل فرقہ ہے‘ یہ انسان کو قادر مطلق مانتا ہے اور تقدیر کا منکر ہے‘ احادیث میں قدریہ کو اس امت کا مجوس کہا گیا ہے‘ مجوس دو خداؤں کے قائل ہیں اور یہ ہرایک کو قادر مطلق کہہ کر بے شمار خداؤں کے قائل ہیں‘ یہ مذہب بھی باطل اور قرآن وحدیث کی صریح نصوص کے خلاف ہے‘ قرآن وسنت اور عقل ومشاہدہ سے جو بات معلوم ہوتی ہے‘ وہ یہ کہ انسان نہ تو مجبور محض ہے اور نہ ہی قادر مطلق ہے‘ بلکہ کاسب ہے اور کسب کا اختیار اپنے اندر رکھتا ہے۔ (۲۴)

۱۳- کرامیہ
یہ فرقہ محمد بن کرام کی طرف منسوب ہے‘ اس فرقے کا نام کرامیہ (بفتح الکاف وتشدید الراء) یا کرامیہ (بکسر الکاف مع تخفیف الراء) ہے۔ یہ شخص سجستان کا رہنے والا تھا‘ صفات باری تعالیٰ کا منکر تھا‘ ان کا عقیدہ ہے کہ ایمان صرف اقرار باللسان کا نام ہے‘ لیکن محققین کی رائے کے مطابق ان کا یہ مذہب دنیوی احکام کے اعتبار سے ہے‘ آخرت میں ایمان معتبر ہونے کے لئے ان کے ہاں بھی تصدیق ضروری ہے‘ بہرحال مجموعی اعتبار سے یہ بھی غلط اور گمراہ فرقہ ہے‘ ان کے مذہب میں مسافر پر نماز فرض نہیں‘ مسافر کے لئے قصر صلاة کی بجائے دو مرتبہ اللہ اکبر کہہ لینا کافی ہے۔ (۲۵)

۱۴- اہل تناسخ
تناسخ درحقیقت بعض قدیم اقوام اور ہندوؤں کا عقیدہ ہے‘ جو بعث بعد الموت کے منکر ہیں اور تناسخ کے قائل ہیں۔ تناسخ کا معنی ہے روحوں کی تبدیلی اور ایک جسم سے دوسرے میں منتقل ہونا‘ اہل تناسخ آخرت کے منکر ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ بندے کو اچھے اور برے اعمال کی جزاء وسزا دنیا ہی میں مل جاتی ہے‘ وہ اس طرح کہ نیک لوگوں کی روح اعلیٰ تر جسم میں منتقل ہوکر عزت پاتی ہے اور برے لوگوں کی روح کمتر جسم میں منتقل ہو کر ذلیل وخوار ہوتی ہے‘ یہی نیک وبدکی جزا وسزا ہے‘ اہل تناسخ کے بہت سے فرقے ہیں‘ بعض فرقے مدعئی اسلام بھی ہیں‘ ان کا مقتدیٰ احمد بن حابط اور اس کا شاگرد احمد بن نانوس ہے‘ ان کا ایک فرقہ دہریہ ہے جو دنیا کے عدم فناء کا قائل ہے‘ بعض فرقے روحوں کے دوسری اجناس میں انتقال کے بھی قائل ہیں کہ انسانی روح جانوروں میں بھی منتقل ہوجاتی ہے‘ بعض اس کے قائل نہیں ہیں وہ صرف جنس میں انتقال روح کے قائل ہیں۔ (۲۶)

حوالہ جات
۱- الاحزاب:۴۰‘ روح البیان: ۷/۱۸۸‘ تفسیر ابن کثیر:۳/۳۹۴ ۲- آئینہ قادیانیت:۲۱۲
۳- الشفاء للقاضی عیاض: ۲/۲۴۶‘۲۴۷‘ المجموع شرح المہذب: ۱۹/۲۳۳) ۴- منہاج السنة: ۲/۲۳۰
۵- اکفار الملحدین:۱۴ ۶- شرح فقہ اکبر ۸۶‘ عقیدہ السلف/۱۰۷ تا ۱۰۹‘ بحوالہ عقیدہ حنفیہ/۴۵ ۷- تاریخ اسماعیلیہ:۵۳‘۵۴ ۸- اسماعیلی تعلیمات کتاب نمبر ۱ -۱۹۶۸ء
۹- وجہ دین: ۱-۱۴۲-۱۴۰-۱۵۰ علم کے موتی: ۱-۱۲-۱۳-۲۹-۴۳ ۱۰- وجہ دین: ۶۶-۶۷
۱۱- فرمان نمبر ۱۴ از فرامین سلطان محمد شاہ بمبئی واژی وجہ دین:۶۶-۶۷ ۱۲- فرمان نمبر ۸۳ زنجبار ۱۲-۹-۱۸۹۹ء
۱۳- مزید تفصیلات کے لئے ملاحظہ فرمائیں- تاریخ اسماعیلیہ: ۵۵- فرمان نمبر ۱۱ کچھ ناگلپور ۱۵-۱۱-۱۹۰۳ء فرمان نبر ۸۳ زنجبار ۱۳-۹-۱۸۹۹ء
۱۴- امداد الفتاوی: ۶/۱۱۴‘ فتاوی حقانیہ: ۱/۳۸۵ ۱۵- ذکری دین کی حقیقت‘ ذکری مذہب کے عقائد واعمال ماہی الذکریہ مصنفہ مفتی احتشام الحق آسیا آبادی ذکری مذہب وذکری فرقہ وذکرہ مذہب کا تفصیلی جائزہ۱۶- الادیان والفرق/۳۰‘۳۱‘بحوالہ العقیدہ الحنفیہ /۱۴۱‘۱۴۲‘ الفصل فی الملل:۱/۴۴ تا۶۴‘ ۲۴۱
۱۷- مسند احمد:۱/۱۰۳‘ رجال کشی /۱۰۸‘ الاعتصام: ۲/۱۸۱ تا۱۸۵‘ جاء دور المجوس/۳۵ تا ۸۹
۱۸-رد المحتار:۴/۲۳۷‘ البزازیہ:۶/۳۱۸‘ بحر الرائق:۵/۱۲۲ ۱۹- الملل والنحل /۸۸‘۸۹‘ الاعتصام:۲/۱۸۵‘۱۸۶
۲۰- عقیدہ طحاویہ مع الشرح/۵۲۱‘۵۲۲‘ الاعتصام:۲/۱۷۷تا۱۸۱
۲۱- عقیدہ سفارینیہ: ۱/۹۱‘۹۲ ۲۲- عقیدہ طحاویہ مع الشرح/۵۲۲تا۵۲۴
۲۳- عقیدہ سفارینیہ: ۱/۸۹‘۹۰ ۲۴- عقیدہ طحاویہ مع الشرح/۵۲۴
۲۵- سنن ابو داؤد:۲/۶۴۴‘ مرقات:۱/۱۷۸‘ ۱۷۹ ۲۶- الفصل فی الملل والنحل:۱/۳۶۹‘۳/۱۴۲‘ ۱۴۳
۲۷- الفصل فی الملل والنحل:۱/۱۰۹‘۱۱۰
بشکریہ جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاون

Category: شعیت پر مضامین | Added by: Admin (2009-05-07)
Views: 623 | Rating: 0.0/0 |
Total comments: 0
Only registered users can add comments.
[ Registration | Login ]
E>

Copyright@RaddEBatilah © 2016